Earthquake in Turkey and Greece | ترکی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

Earthquake in Turkey and Greece 
ترکی میں زلزلے کے شدید جھٹکے


The epicenter was reported below the Aegean coast in Turkey, however; no tsunami alert was issued.


According to the US Geological Survey, an earthquake measuring 17 on the Richter scale struck 17 kilometers off the coast of the western Turkish province of Izmir.


No casualties were reported in the latest reports from Turkey, but images from Izmir show buildings collapsing in the aftermath of the quake.


The quake affected Greece and Crete, according to the US Geological Survey.


There are also videos circulating on social media in which people can be seen removing debris, but these videos have not been confirmed.


Frightened by the tremors, people took to the streets in a state of fear and confusion.


A previous earthquake in January of this year killed at least 30 people and injured 1,600 when a magnitude 7.0 earthquake shook the town of Sevres in the Turkish province of Aleppo.


A previous earthquake in 1999 near the Turkish city of Istanbul killed at least 17,000 people.

ترکی میں زلزلے کے شدید جھٹکے، کئی بلند و بالا عمارتیں گر گئیں

ترکی کا شہر ازمیر 7 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا،ساحلی شہر میں سمندر کی سطح بلند ہوگئی ، پانی آبادی میں داخل ہو گیا


 ترکی، بلغاریہ، یونان ،برطانیہ ،مصر اور لیبیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جب کہ ترکی کا شہر ازمیر زلزلے کی شدت سے لرز اٹھا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کے شہر ازمیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7 ریکارڈ کی گئی جبکہ ازمیر کے قریب ساحلی شہر میں سمندر کی سطح بلند ہوگئی ہے اور پانی آبادی میں داخل ہوگیا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے بلغاریہ ،یونان، برطانیہ، مصر اور لیبیا میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے کئی عمارات کے زمین بوس ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔زلزلے کے باعث بھاری جانی اور مالی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زلزلے کے خوف سے لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے ہیں۔ زلزے کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس بھی پھیل گیا ہے۔


Post a Comment

0 Comments