گلگت بلتستان پولیس کا دو ’انڈین جاسوس‘ پکڑنے کا دعویٰ


 پولیس کا دو ’انڈین جاسوس‘ پکڑنے کا دعویٰ

Gilgit-Baltistan police claim to have caught two 'Indian spies'




گلگت بلتستان پولیس نے دو مبینہ انڈین جاسوس گرفتار کر کے ان سے انڈین کرنسی، موبائل، انڈین شہریت اور جاسوسی کے چند آلات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
گلگت پولیس کے مطابق دونوں مبینہ جاسوسوں پر سکیورٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کر دیے گئے ہیں۔
گگلت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں افراد کو چند روز قبل اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مبینہ طور پر استور شہر کے قریب لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس نے دونوں افراد کی شناخت نور احمد وانی اور فیروز احمد لون کے ناموں سے ظاہر کی ہے۔
فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ ان مبینہ جاسوسوں کو سرحد کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔
انھوں نے بتایا ’گرفتاری کے بعد مبینہ جاسوسوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ اپنے مویشیوں کی حفاظت کرتے ہوئے غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئے۔‘ فیض اللہ فراق نے آگاہ کیا کہ اس علاقے میں غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے واقعات کی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔

فیض اللہ فراق نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں افراد کا کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے گریز سے ہے۔ گریز میں بھی گلگت میں بولی جانے والی زبان بولی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گریز میں بسنے والے زیادہ تر لوگ انڈیا کے حامی ہیں۔




ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والوں نے پاکستانی تحقیقاتی اداروں کو بتایا ہے کہ انھیں ’انڈین خفیہ ایجنسی را نے زبردستی پاکستان میں داخل کیا ہے۔‘


فیض اللہ فراق نے مزید دعوی کیا کہ ’اُن (مبینہ جاسوسوں) کو کہا گیا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ رابطے کریں اور پاکستان فوج سے کہیں کہ وہ انڈیا کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ رابطے پیدا کر کے پاکستانی فوج اور پھر گلگت بلتستان کے حوالے سے معلومات را سے شیئر کریں۔‘ فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد نے ہمارے تحقیقاتی اداروں کو بتایا ہے کہ انھیں را نے ’کشمیری مجاہدین بننے کی تربیت فراہم کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ہمیں پاکستان فوج اور حکام سے مل کر کشمیری مجاہدین بننے کا روپ دھارنا ہے۔‘
گذشتہ روز گلگت بلتستان نے گرفتار ہونے والے دونوں افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے فیروز احمد لون کا کہنا تھا کہ وہ ایک مزدور ہیں۔
’سنہ 2014 مییں بھارتی حکام نے ہماری ملاقات رؤف نامی ایک شخص سے کروائی تھی اور کہا تھا کہ یہ شخص ہماری مدد کرئے گا۔ اس نے ہماری ملاقات انڈین خفیہ ایجنسی را کے افسران سے کروائی تھی۔‘انھوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر انڈین خفیہ ایجنسی نے انھیں دھمکیاں دیں تھیں کہ اگر ہم نے ان کے لیے کام نہ کیا تو ہمارے خاندان کو جان سے مار دیا جائے گا۔‘
’جب ہم کام کے لیے تیار ہوئے تو ہمیں ایک لاکھ روپیہ دیا گیا اور کہا کہ مشن مکمل ہونے کے بعد مزید دس لاکھ دیے جائیں گے۔‘
پاکستان حکام کی جانب سے جاسوس قرار دیے جانے والے دوسرے مبینہ جاسوس نور احمد وانی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’ہمحکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمیں رہا کیا جائے۔‘



Post a Comment

0 Comments