انڈیا: ماسک نہ پہننے پر شہری پر ’جارج فلائیڈ طرز‘ کا مبینہ پولیس تشدد | Alleged police torture on a citizen for not wearing a mask

 ماسک نہ پہننے پر شہری پر کا مبینہ پولیس تشدد





ایک وائرل ہونے والی فوٹو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہلاکت سے قبل 46 سالہ جارج فلائیڈ کی گردن کو ایک پولیس اہلکار نے اپنے گھٹنے سے دبایا ہوا تھا۔
انڈین ریاست راجھستان کے شہر جودھپور سے سامنے آنے والی مبینہ پولیس تشدد کی ایک ویڈیو کا سوشل میڈیا پر آج کل خاصا چرچا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کا ایک اہلکار شہری کی گردن کو گھٹنے سے دبا رہا ہے، لگ بھگ اسی طرح جیسے جارج فلائیڈ کی گردن دبائی گئی تھی۔
انڈیا کے مختلف شہروں کی طرح جودھپور میں بھی عوامی مقامات پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والے شہریوں کو جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق شہری پر پولیس تشدد کا واقعہ ماسک نہ پہننے کے باعث پیش آیا۔

جودھپور کے پولیس کمشنر پرپھل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دو پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے جس دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس اہلکار کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے کارِ سرکار میں مداخلت کی اور اب وہ عدالتی تحویل میں ہے۔‘
انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین جودھپور سے سامنے آنے والی ویڈیو کو جارج فلائیڈ کی طرز کا ایک واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
ویوک مادان نامی صارف نے لکھا کہ ’کیا ہماری پولیس امریکی پولیس سے کم ہے۔ جودھپور پولیس کا اہلکار ماسک نہ پہننے پر شہری کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبا رہا ہے۔ مگر ہماری اہلیت دیکھیے، یہ شخص جارج فلائیڈ کی طرح ہلاک نہیں ہوا۔‘

تشدد کا نشانہ بننے والا شہری کون ہے؟

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں جس شخص پر تشدد کیا جا رہا ہے وہ پیلی رنگ کی شرٹ پہنے ہوئے ہے۔ اس شخص کا نام مکیش کمار پرجاپت بتایا جا رہا ہے۔
تین بچوں کے والد مکیش پرجاپت مزدوری کرتے ہیں اور جمعرات کے روز بھی وہ مزدوری کرنے کے غرض سے گھر سے نکلے جس کے بعد مبینہ طور پر ماسک نہ پہننے کے معاملے پر پولیس اہلکاروں اور ان کے درمیان تکرار ہو گئی۔
مکیش کے بڑے بیٹے رشی نے بی بی سی کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث ان کے اہلخانہ کہ پاس آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور اسی لیے ان کے والد کچھ پیسے کمانے کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے۔
اس ویڈیو نے پولیس اہلکاروں کے اس عمل پر کافی سوالات اٹھائے ہیں اور متعدد صارفین اسے ’پولیس تشدد‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔
نندا کمار نامی ایک صارف نے اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ مغرب (ویسٹ) کا اثر تو نہیں؟



پولیس اہلکار کا موقف

اس پورے معاملے پر بی بی سی نے واقعے میں ملوث کانسٹیبل ہنومان گودارا سے بات کی جن کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو دن 12 بجے کے لگ بھگ پیش آیا تھا۔
کانسٹیبل گودارا کے مطابق ملزم مکیش پرجاپت ماسک کے بغیر ٹہل رہے تھے جب انھوں نے ملزم کی اپنے فون سے تصویر لی۔
کانسٹیبل گودارا بتاتے ہیں کہ ’مکیش پرجاپت میرے سے بحث کرنے لگے جس پر میں نے ان کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔‘ ہنومان گودارا کے بقول مکیش پرجاپت نے ان کا فون چھیننے کی کوشش کی اور اس دوران ان کا گریبان بھی پکڑا۔
البتہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چند صارفین نے ان تصاویر کی جانب بھی اشارہ کیا جن میں مکیش کو ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔

’میرے بیٹے کے کپڑے خون میں لت پت اور ہاتھ فریکچر تھا‘





مکیش پرجاپت کے والد ماہادیو پرجاپت نے بتایا کہ پولیس نے اس واقعے کی اطلاع دی تو وہ تھانے پہنچے۔
انھوں نے کہا ’میرے بیٹے کے کپڑے خون میں لت پت اور ہاتھ فریکچر تھا، میں نے پولیس سے فریاد کی مگر انھوں نے ایکسرے تک نہیں کرایا۔‘
ماہادیو پرجاپت کے مطابق ’ہم تو اب سکون سے بیٹھے ہیں، خاموشی سے بیٹھے ہیں ہمارے پاس تو کھانے کے بھی پیسے نہیں، ہم اور کر بھی کیا کر سکتے ہیں۔‘
مکیش پرجاپت کے والد ماہادیو کا موقف ہے کہ مکیش نے ماسک پہننا ہوا تھا، اس کے باوجود بھی پولیس اہلکار نے مکیش سے پیسے مانگے اور نہ دینے پر انھیں خوب پیٹا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے سے جڑے حقائق پر صارفین میں اب بھی اضطراب پایا جاتا ہے۔
ایک طرف کچھ صارفین وہ ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جہاں مکیش کو پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھاتے اور ان کا گریبان پکڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک صارف نے پولیس کے موقف کی تائید کی اور لکھا کہ ملزم نے پہلے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔
اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حقائق معلوم ہو پائیں گے لیکن فی الوقت صارفین راجھستان پولیس کا امریکہ کی پولیس سے موازنہ کرنے میں مصروف ہیں اور پولیس تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے بھی نظر آ رہے ہیں۔



Post a Comment

0 Comments