کراچی طیارہ حادثہ ہلاک ہونے والوں کی میتیں حوالے نہ کیے جانے پر ورثا کا غم و غصہ

کراچی طیارہ حادثہ ہلاک ہونے والوں کی میتیں حوالے نہ کیے جانے پر ورثا کا غم و غصہ





کراچی طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ حکومت اور اداروں کی جانب سے اپنے پیاروں کی میتیں حوالے کرنے میں تاخیر کو حکومتی بے حسی قرار دیتے ہوئے اپنے تجربات سوشل میڈیا پر بیان کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق طیارہ حادثے میں کل 97 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جن میں سے 41 میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ 56 کا ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے۔
حادثے کے بعد حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے اور فارنزک تجزیے کے نتائج آنے میں ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر غزل بیگ نامی صارف نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دو خواتین طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے اپنے عزیز کے میت کو لینے کے لیے حکام کی منت سماجت کرتی نظر آ رہی ہیں۔
بی بی سی نے غزل بیگ سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والا ان کا بھائی تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خواتین ان کی تائی اور کزن ہیں۔

اہلکار سے میت کو حوالے کرنے کی درخواست پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس دوران ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ان کا ڈی این اے ہو چکا ہے تو خواتین کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مسافر کا ڈی این اے بھی ہو چکا ہے اور پولیس تمام معاملات کلیئر بھی کر چکی ہے۔
ویڈیو میں ایک خاتون رُو رُو کر کہتی ہیں کہ ’خدا کے لیے میرا بچہ مجھے دے دو، میں نے اپنا واحد (بیٹے کا نام) پہچان لیا ہے۔‘
جبکہ دوسری خاتون اہلکار کو کہتی ہیں کہ ’آج پانچ دن ہو گئے۔۔۔ اب بس تکلیف میں یہاں سے وہاں بھگا رہے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’۔۔۔ ہم غلط میت نہیں لے کر جائیں گے۔۔۔ پانچ دن تو ہو گئے ہیں اُس کو آپ نے تھیلوں میں بند کیا ہوا ہے۔۔۔‘
غزل بیگ نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب وہ ہمیں اپنے پیاروں کی میتوں کے لیے بھیک منگوا رہے ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کو سکون پہنچانے کا انتظار کر رہے تھے۔'
اس کے علاوہ ٹوئٹر پر عادل رحمان نامی صارف نے اپنی ٹویٹس میں اسی نوعیت کی شکایت کی ہے


ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس طیارہ حادثے میں اپنے دونوں والدین کو کھو دیا اور اسے اللہ کی رضا سمجھ کر اس کے سپرد کر دیا لیکن جو سلوک پی آئی اے ہمارے ساتھ کر رہا ہے اس کو بیان کرنا مشکل ہے، اس کی کوئی معافی نہیں مل سکتی، یہ لوگ بے حس اور نااہل ہیں۔‘

اسی طرح انھوں نے ایک اور ٹویٹ کے ذریعے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’پی آئی اے کو کچھ ہمارے دکھ اور تکلیف کا اندازہ ہونا چاہیے، لاہور اور کراچی کی فارنزک ٹیم کے آپسی لڑائی کی وجہ سے میتوں کی شناخت پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔ اب لاشیں چوری ہو رہی ہیں۔ میرے والدین کی میتیوں پر رحم کریں، کیا آپ میں اللہ کا خوف نہیں ہے۔‘
جبکہ بعض متاثرین کو پی آئی اے کے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کے عمل کو ہی ’جھوٹا‘ قرار دے رہے ہیں۔
عارف اقبال فاروقی نامی ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'میں نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو ان زیورات سے پہچانا جو انھوں نے پہنے ہوئے تھے، میرا بیٹا اور چھوٹی بیٹی ابھی تک لاپتہ ہیں اور مجھے یہ پتا چلا ہے کہ یہ ڈی این اے نمونے کے ذریعے شناخت کا عمل جھوٹا ہے۔ اگر میں اپنی بیٹی اور اہلیہ کی میتیوں کی شناخت نہ کرتا تو انھوں نے یہ کسی اور کو دے دینی تھیں۔‘

حکومت کا موقف

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی جانب سے پی آئی اے حادثے کے بعد متعلقہ اداروں کو خاص ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ 24 گھنٹوں کے اندر تمام ہلاک ہونے والے مسافروں کے جسد خاکی تلاش کر لیے جائیں۔
اس عمل کے لیے پی آئی اے سکاؤٹس، رضاکاران، آرمی، ائیرفورس، پولیس، رینجرز کے جوانوں اور علاقہ مکینوں کی مدد حاصل کی جائے۔
‏‎وفاقی وزیر کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق طیارہ حادثے میں کل 97 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جن میں سے 41 میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ 56 کا ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے جس کے لیے میڈیکل ریکارڈ اور لواحقین کے نمونے حاصل کر کے شناخت کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔
‏‎وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے تمام میتیوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے اور اس سلسلے میں لواحقین کو 10 لاکھ روپے تدفین کی مد میں پی آئی اے کے افسران گھروں میں جا کر ادا کر رہے ہیں۔
‏‎غلام سرور خان نے کہا کہ پی آئی اے کا ایمرجنسی ریسپانس سینٹر فعال ہے اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت اور دیکھ بھال میں مشغول ہے اور اس وقت تک کام کرتا رہے گا جب تک آخری میت لواحقین کے حوالے نہیں کر دی جاتی۔
وفاقی وزیر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت نے تحقیقاتی ٹیم کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی رپورٹ تین ماہ کے اندر حکومت کو جمع کرائیں۔ اس سلسلے میں ان کی معاونت کے لیے ایئر بس کی ٹیم کی رہنمائی بھی حاصل کر لی گئی ہے جنھوں نے جائے حادثہ پر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق غیر جانبدار اور شفاف نتائج کے حصول کے لیے تحقیقاتی عمل کے دوران پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور کسی بھی فریق ادارے یا فرد کو شامل نہیں کیا جائے گا۔





Post a Comment

0 Comments