لاک ڈاؤن میں وہ زندگی میسر آئی جس کا تصور شادی سے پہلے کیا تھا

حرا مانی کا خصوصی انٹرویو لاک ڈاؤن میں وہ زندگی میسر آئی جس کا تصور شادی سے پہلے کیا تھا

 



مارچ میں دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا تو حرا امریکہ میں تھیں جہاں سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے پاکستانیوں کے مقابلے میں امریکیوں کو بزدل کہہ کر ان کا مذاق اڑایا تھا۔
بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران حرا نے اعتراف کیا کہ انھوں نے امریکیوں کے لیے جو جملہ استعمال کیا وہ درست نہیں تھا۔
’میں نے ایک ایسا جملہ بولا جو مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا۔ اس وقت اتنا زیادہ لاک ڈاؤن شروع نہیں ہوا تھا یہ میرے لیے بھی نیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اُس ویڈیو میں انھوں نے پاکستانیوں کی جو تعریف کی وہ نظر انداز کر دی گئی۔





’میں یہی سوچتی تھی کہ ایک سادہ سی گھریلو بیوی کی زندگی ہو گی۔ جس کی سوچ لے کر میں نے شادی کی تھی لیکن وہ زندگی مجھے 12 سال بعد قرنطینہ میں ملی ہے۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کی معروف اداکارہ حرا مانی کا جو آج کل کراچی میں لاک ڈاؤن سے متاثر افراد کی مدد کرنے کے باعث خاصی مقبول ہیں۔
حرا لاک ڈاؤن میں گزرنے والے روز و شب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اس سے پہلے کی جو زندگی تھی وہ بہت ٹی وی، فلمی اور ڈرامائی دنیا تھی۔

’لاک ڈاؤن میں مجھے اپنے بچوں کے لیے ٹائم مل گیا ہے۔ کس طرح صبح ہوتی ہے کب شام ہوتی ہے پتا ہی نہیں چلتا ہے۔‘
حرا نے کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن میں انھیں وہ زندگی میسر آئی ہے جس کا تصور انھوں نے شادی سے پہلے کیا تھا۔



’ہم پاکستانی قوم ذرا نڈر سی قوم ہیں۔ جب ہمیں پتا چلا تھا کہ سونامی آنے والا ہے تو سب سی ویو پہنچے تھے۔ ہم لوگوں نے سنہ 1965 کی جنگ بھی دیکھی چھتوں پر کھڑے ہو کر۔
’مجھے یاد ہے کہ جب زلزلہ آیا تھا تو میں اپارٹمنٹ میں ہوتی تھی اور ہم سارے نیچے اتر گئے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے‘
ان کا مزید کہنا تھا ایک وقت تھا جب کراچی میں ہڑتالیں ہوتی تھیں اور  سب بند ہوتا تھا، یہاں سے فائرنگ وہاں سے فائرنگ۔ تو ہم لوگ تو بہت ہمت والی قوم ہیں اور  میرے خیال میں ہماری ہمت کی داد تو ساری دنیا میں دی جاتی ہو گی۔
امریکہ سے واپسی پر حرا اور مانی دونوں نے مل کر لاک ڈاؤن میں محصور غریب لوگوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا اور راشن تقسیم کرنا شروع کر دیا
رضاکارانہ طور پر شروع کیے گئے اس کام کے بارے میں حرا نے بتایا کہ وہ اور مانی کافی عرصے سے ایک گاڑی خریدنے کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔
’ہم اس وقت بات کر رہے تھے کہ اس دفعہ ہم نے کوئی نہ کوئی 'فورچونر' تو بُک کرانی ہی کرانی ہے۔ لیکن پھر وہی ہوا کہ جب میں امریکہ سے واپس آئی اور اس طرح کے حالات ہوئے تو میں نے مانی کو کہا کہ اب نکال لیتے ہیں اس میں سے پیسے  کرتے ہیں یار کچھ۔ یہ بھی کر کے دیکھتے ہیں۔‘

ابھی ان دونوں میاں بیوی کی جانب سے خیرات بانٹے کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر تنقید شروع ہو گئی۔
اس بار خیرات کے لیے بنائے گئے راشن کے تھیلوں کے ساتھ حرا اور مانی کی تصویریں گردش کرتی رہیں اور کہا گیا کہ انھوں نے سستی شہرت کے لیے یہ کام کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ آیا خیرات کرتے وقت تشہیر درست ہے کہ نہیں؟
اس معاملے پر حرا نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں اچھے برینڈڈ کپڑے پہنتی ہوں، کسی بڑے جہاز میں سفر کرتی ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی بھی تفریحی مقام پر جاتی ہوں اور جب میں ایوارڈ جیتتی ہوں تو تصویر لگاتی ہوں۔
’تو اب جب میں یہ اچھا کام کر رہی ہوں تو اس کی بھی میں نے تصویر لگائی تاکہ آپ لوگ بھی میرا اس مقصد میں ساتھ دے سکیں۔‘


حرا مانی اپنے کرداروں کی وجہ سے خواتین میں بے حد مقبول ہیں جو اس بات کو بھی سراہتی ہیں کہ 19 سال کی عمر میں شادی اور دو بچوں کے باوجود وہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں صفِ اول کی اداکاراؤں میں اپنا نام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔
ان کے مشہور ڈراموں میں ’یقین کا سفر‘، ’پگلی‘، ’ٹھیس‘، ’دل موم کا دیا‘، ’آنگن‘، ’بندش‘، ’دوبول‘، ’میرے پاس تم ہو‘، ’غلطی‘ اور ‘کشف‘ شامل ہیں۔
شوبز میں اپنے کام اور سوشل میڈیا پر اپنی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر اظہار کی وجہ سے وہ اکثر ٹرولنگ کا شکار بھی رہتی ہیں لیکن حرا سمجھتی ہیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی سب کا حق ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے شوہر سے ان منفی پیغامات کو نظر انداز کرنا سیکھا ہے۔ ’ہم مشہور شخصیات ہیں۔ ہمیں یہ بات قبول کرنی چاہیے۔ جب آپ مشہور شخصیت ہوں تو آپ پر کسی بھی قسم کی کوئی بھی تنقید ہو سکتی ہے۔‘

حرا نے مزید کہا کہ ’میں ان سارے منفی کامنٹس کو بوئیل ایگز (ابلتے انڈے) کہتی ہوں جو کہیں نہ کہیں تو ابلیں گے نا۔
’میرے پیج پر آپ کے پیج پر۔ میرے سوشل میڈیا صفحات پر آ کے آپ اپنی دکھ بھری کہانیاں بھی مجھے سنا سکتے ہیں، کسی کی برائی کرنی ہے وہ بھی کر دیں، میری بھی کردیں کیونکہ میں آپ کو روک نہیں سکتی۔‘
البتہ بچوں کے معاملے میں وہ کافی حساس نظر آئیں۔ ’بس ایک چیز پر مجھے ذرا اعتراض ہے۔ جب بچوں پر بات آتی ہے تو مجھے غصہ آتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی زیادہ شیطانی سوچ ہے کہ آپ کسی بچے کو گالی دے دیں۔‘
واضح رہے کہ کچھ عرصے قبل حرا نے اپنے انسٹا گرام پر بتایا کہ وہ اپنے 11 سالہ بیٹے مزمل کو ہالی وڈ کی فلم ’جوکر‘ دکھانے سنیما لے کر گئیں۔ جس کے بعد مزمل نے اُنھیں بتایا کہ وہ خود کو فلم کے مرکزی کردار جوکر سے قریب محسوس کرتے ہیں کیونکہ انھیں بھی سکول میں ہراساں کیا گیا ہے۔
جواب میں سوشل میڈیا پر لوگوں نے حرا سمیت ان کے بیٹے کو ایک ’آر ریٹڈ‘ یا بالغوں کے لیے بنی فلم دیکھنے اور دکھانے پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس معاملے پر حرا نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ 'جب میں اچھے برینڈڈ کپڑے پہنتی ہوں، کسی بڑے جہاز میں سفر کرتی ہوں، جب میں اپنے بچوں کے ساتھ کسی بھی تفریحی مقام پر جا کے وقت گزار رہی ہوتی ہوں اور جب میں ایوارڈ جیتتی ہوں تو تصویر لگاتی ہوں۔ تو اب جب میں یہ اچھا کام کر رہی ہوں تو اس کی بھی میں نے تصویر لگائی تاکہ آپ لوگ بھی میرا اس مقصد میں ساتھ دے سکیں۔'
حرا مانی اپنے کرداروں کی وجہ سے خواتین میں بے حد مقبول ہیں جو اس بات کو بھی سراہتی ہیں کہ 19 سال کی عمر میں شادی اور دو بچوں کے باوجود وہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں صفِ اول کی اداکاراؤں میں اپنا نام بنانے میں کامیاب رہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں 'یقین کا سفر'، 'پگلی'، 'ٹھیس'، 'دل موم کادیا'، 'آنگن'، 'بندش'، 'دوبول'، 'میرے پاس تم ہو'، 'غلطی' اور 'کشف' شامل ہیں۔
شوبز میں اپنے کام اور سوشل میڈیا پر اپنی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر اظہار کی وجہ سے وہ اکثر ٹرولنگ کا شکار بھی رہتی ہیں لیکن حرا سمجھتی ہیں کہ اظہارِ رائے کی آزادی سب کا حق ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے شوہر سے ان منفی پیغامات کو نظر انداز کرنا سیکھا ہے۔
’ہم مشہور شخصیات ہیں۔ ہمیں یہ بات قبول کرنی چاہیے۔ جب آپ مشہور شخصیت ہوں تو آپ پر کسی بھی قسم کی کوئی بھی تنقید ہو سکتی ہے۔‘
حرا نے مزید کہا کہ 'میں ان سارے منفی کامنٹس کو بوئیل ایگز (ابلتے انڈے) کہتی ہوں جو کہیں نہ کہیں تو ابلیں گے نا۔
’میرے پیج پر آپ کے پیج پر۔ میرے سوشل میڈیا صفحات پر آ کر آپ اپنی دکھ بھری کہانیاں بھی مجھے سنا سکتے ہیں،کسی کی برائی کرنی ہے وہ بھی کردیں، میری بھی کر دیں کیونکہ میں آپ کو روک نہیں سکتی۔‘
البتہ بچوں کے معاملے میں وہ کافی حساس نظر آئیں۔ ’بس ایک چیز پر مجھے ذرا اعتراض ہے۔ جب بچوں پر بات آتی ہے تو مجھے غصہ آتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی زیادہ شیطانی سوچ ہے کہ آپ کسی بچے کو گالی دے دیں۔‘
واضح رہے کہ کچھ عرصے قبل حرا نے اپنے انسٹا گرام پر بتایا کہ وہ اپنے گیارہ سالہ بیٹے مزمل کو ہالی وڈ کی فلم ’جوکر‘ دکھانے سنیما لے کر گئیں۔ جس کے بعد مزمل نے اُنھیں بتایا کہ وہ خود کو فلم کے مرکزی کردار جوکر سے قریب محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی سکول میں حراساں کیا جاتا ہے۔
جواب میں سوشل میڈیا پر لوگوں نے حرا سمیت ان کے بیٹے کو ایک آر ریٹڈ یا بالغوں کے لیے بنی فلم دیکھنے اور دکھانے پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Post a Comment

0 Comments