کورونا ریسکیو ہیلپ لائن 1190: طبی مدد کے بجائے راشن کے لیے کالز

کورونا ریسکیو ہیلپ لائن1190: طبی مدد کے بجائے راشن کے لیے کالز



DG Rescue Punjab says that the increasing number of calls for rescue helpline 1190 for guidance and assistance regarding Corona in Pakistan is a clear change in the trend of emergency calls.

Director General Punjab Emergency Service Dr. Rizwan Naseer was informed during his visit to the Helpline Center that since March 21, 2020, a total of 22201 calls have been received on the Corona Rescue Helpline. However, none of them are calling for medical advice but requesting for ration packs.

These include 3552 Corona Medical consultation calls, and 17268 ration application calls. Other calls during this period include 343 corona testing questions, 336 suspected corona patient information, 92 public gathering or mob complaints, 17 disinfection requests, 16 patient transfer requests, and 577 feedback/information calls.

The DG Rescue said that this shows that people are more concerned about the provision of food than medical advice on COVID-19.

ڈی جی ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے رہنمائی اور مدد کے لیے بنائی گئی ریسکیو ہیلپ لائن 1190 پرراشن فراہمی کے لیے بڑھتی ہوئی کالز دراضل ایمرجنسی کالز کے رجحان میں واضح تبدیلی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کو ہیلپ لائن سنٹر کے دورے پر بتایا گیا کہ21 مارچ 2020 کے بعد سے کورونا ریسکیو ہیلپ لائن پر کُل 22201 کالز موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ان میں کوئی بھی شخص طبی مشورے کے لیے فون نہیں کررہا بلکہ راشن پیک کی فراہمی کے لیے درخواست کررہا ہے۔

ان میں سے3552 کورونا میڈیکل کے حوالے سے مشورے کی کالز، اور راشن کی درخواستوں کی 17268 کالیں شامل ہیں۔ اس مدت کے دوران دیگر کالوں میں 343 کورونا ٹیسٹنگ کے سوالات، 336 مشتبہ کورونا مریضوں کی معلومات، 92 عوامی مجمع یا ہجوم کی شکایات، ڈس انفیکشن کی 17 درخواستیں، 16 مریضوں کی منتقلی کی درخواستیں اور 577 آراء / معلومات کی کالیں شامل ہیں۔


ڈی جی ریسکیو کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ COVID-19 سے متعلق طبی مشورے کے بجائے کھانے کی فراہمی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔

Post a Comment

0 Comments